شرعی راہ نمائی بہ سلسلہ ماہانہ مینٹینینس چارجز اور ڈیویلپمنٹ چارجز

An Insight into Maintenance and Development Charges in Light of Islamic Law/Shari'ah
سوال

براہ کرم مجھے  مندرجہ ذیل صورت حال کے تحت سوالات کے  شریعت کی روشنی میں جوابات     مرحمت فرمایے۔

 (کراچی سے ایک سائل ---سائل کا نام ان کی درخواست پر نہیں لکھا گیا)

سوال سے پہلے کچھ صورت حال کا بیان کیا جانا ضروری ہے:

الف: صورت یہ ہے کہ ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں 70 فی صد مالکان فلیٹ خود نہیں رہتے اور اپنے اپنے فلیٹ کرایہ پر دیے ہوئے ہیں۔ اور منہ مانگا کرایہ بھی فکس کیا ہوا ہے اور کرایہ کے ساتھ ساتھ ماہانہ مینٹینینس چارجز ( جو کہ اس فلیٹ تک رسائی اور اس کے مینٹین ہونے اور وجہ جواز ہیں اس فلیٹ کے کرایہ پر چڑہنے کے ورنہ ان سہولیات کے نہ ہونے کی صورت میں کوئی بھی اس فلیٹ کو کرایہ پر لیتا ہی نہیں ؛مثلاً؛ 17 منزلہ بلڈنگ میں لفٹ کا ہونا اور اس کا مینٹین کیا جانا، پانی بجلی گیس کی سہولت ہونا ماحول صاف ستھرا رہنا)  قانون کرایہ داری -سندھ رینٹڈ پریمیسس آرڈینینس 1979 کے مطابق یہ سب ڈیوٹی مالک مکان/فلیٹ پر عائد ہوتی ہے۔ جب کہ اسٹیٹ ایجنٹوں نے ملی بھگت سے خلاف قانون ایگریمنٹ کے اندر کرایہ داروں پر ڈال رکھا ہے اور وہ بامر مجبوری نہ چاہتے ہوئے بھی یہ ماہانہ مینٹینینس کی مد میں بھی ماہانہ کرائے کے علاوہ ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

ب:اب ایک دوسری صورت یہ ہے کہ اپارٹمنٹ کی یونین۔۔۔۔کچھ عرصے بعد اس ماہانہ مینٹینینس میں بھی کبھی ہلکا اور کبھی بہت زیادہ اضافہ بھی کرتے رہتے ہیں جو کہ وہ بھی کرایہ دار ہی پر ادا کرنا رہتا ہے۔۔۔۔

ج:      اب ایک نئی صورت یہ سامنے آئی ہے کہ ایک نئے نئے اپارٹمنٹ میں ایک نئی یونین جو کہ ابھی باقاعدہ طور پر 100 فی صد بلڈر کی جانب سے چارج بھی سنبھال نہیں پائی مگر عملاً اس نے اس اپارٹمنٹ کا انتظام چلانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ اور اس یونین نے اپارٹمنٹ کے ماہانہ اخراجات کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مستقل ڈیویلپمنٹ معاملات کے لیے جس کا 100 فی صد فائدہ براہ راست مالکان مکان/ مالکان فلیٹ کو ملنا ہے اور ان ہی کی پراپرٹی کی ویلیو بھی بڑھنی ہے اور ان ہی کو حتمی فائدہ ملنا ہے۔۔۔۔کو بنیاد بنا کر اس اضافی ڈیویلپمنٹ کے لیے ۔۔۔۔ماہانہ مینٹینینس ہی میں 4000 روپے فی فلیٹ اضافہ کردیا ہے جب کہ فلیٹ کے سائز بھی برابر نہیں ہیں اور ان کے اندر بسنے والے افراد اور ان کی جانب سے استعمال ہونے والے وسائل میں بھی برابری نہیں ہیں۔۔۔اور اہم ترین بات یہ کہ۔۔۔  یہ فنڈ خالصتاً مالکان کی پراپرٹی کی بہتری کے لیے خرچ ہونا ہے جب کہ یہ سارا بوجھ اس بلڈنگ میں رہنے والے 70 فی صد کرایہ داروں پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے(ماہانہ مینٹینینس کی صورت میں) جب کہ کرایہ دار  تو مستقنل رہائشی  نہیں ہیں ،کیونکہ انھوں نے تو کچھ وقت بعد چلے جانا ہے اور ان کے  دیے ہوئےپیسے ان کے کسی کام نہیں آنے وہ تو مالکان کی پراپرٹی پر انویسٹ ہو جانے ہیں۔ اور قانون  (سندھ رینٹڈ پریمسس آرڈینینس 1979)کے مطابق ماہانہ مینٹینینس کی ذمہ دار ی بھی  دراصل مالکان پر ہی تھی جو انھوں نے اسٹیٹ ایجنٹوں کے ساتھ ملی بھگت سے وہ بھی کرایہ داروں پر ہی ڈال رکھی ہے اور اپنی پراپرٹی پر مستقبل کے لیے انویسٹمنٹ بھی پس پردہ کرایہ داروں پر ڈال رہے ہیں ماہانہ مینٹینینس کا نام دے کر۔ اور کرایہ داروں کو بلیک میل بھی کر رہے ہیں اور یونین والوں سے بلیک میل بھی کروا رہے ہیں اور تھریٹ دِلوا  رہے ہیں فلیٹ خالی کروا دینے کی۔ تو اس ساری صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل استفتاء/سوالات کے جوابات مقصود ہیں:

سوال نمبر-1:     پہلی بات تو یہ ہے کہ کرایہ داری کا واضح قانون ہوتے ہوئے جس میں کرایہ پر چڑھنے والے فلیٹ/مکان سے منسلک ہر قسم کی مینٹینینس مالک کی ذمہ داری ہے نہ کہ کرایہ دار کی وہ صرف یوٹیلیٹی بلز یعنی بجلی پانی اور گیس جو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرے گا ،وہ دینے کا پابند ہے ، نہ کہ مالک کی پراپرٹی کو مینٹین کرنے کا۔ رہائش کے بدلے تو وہ  طے شدہ کرایہ ادا کر ہاہے ۔۔بالکل اسی طرح ، جس طرح ٹرانسپورٹ میں گاڑی کی مینٹینینس مسافروں کے ذمہ نہیں ہوتی ان سے تو طے شدہ کرایہ ہی لیا جاتا ہے۔ تو اس کا شریعت اسلامیہ کی روشنی میں حل اور جواب چاہیے۔

 سوال نمبر-2:      ایسی ہر قسم کی رقم جو واضح طور پر مالکان کی پراپرٹی کی بہتری، ڈیویلپمنٹ اور رینو ویشن وغیرہ کے لیے جمع کی جارہی ہے وہ کیا صرف اور صرف مالکان کی ذمہ داری نہیں کیا وہ بھی کرایہ دار سے وصول کرنا جائیز ہے؟ کیا اسے ایک الگ خصوصی فنڈ کے طور پر ماہانہ   مینٹینینس سے الگ رکھتے ہوئے خالصتاً مالکان سے طلب کیا جانا ہی درست نہیں؟

سوال نمبر-3: اس مخصوص صورت میں کیا مالکان  یا یونین  کی جانب سے رہائشیوں (بہ شمول 70 فی صد کرایہ داران) تھریٹ / دھمکی  دی جا سکتی ہےاور ڈرا دھمکا کر یہ پیسے کرایہ داروں سے ہی وصول کی جا سکتے ہیں؟  جب کہ کرایہ دار دل سے نہیں چاہتے اس اضافی رقم کو دینا جو ان کے اصل میں کسی کام نہیں آنی اور نہ ہی سیونگ انھیں واپس ملتی ہے۔

سوال نمبر-4: براہ کرم اس مسئلے کا بھی جواب دے دیجیے شریعت کی روشنی میں کہ ایک بلڈنگ میں 2 بیڈ (1050 اسکوائر فٹ) ، 3 بیڈ (15000 کے آس پاس اسکوائر فٹ) اور 4 بیڈ ساڑھے 18 سو  اسکوائر فٹ) اپارٹمنٹ ہیں تو حکومت کے مروجہ فارمولے کے مطابق فلیٹ یا مکان کے سائیز کے حساب سے چارجز/ٹیکسز  ہوتے ہیں لہٰذا اس کے مطابق فلیٹ / مکان کے سائز کے حساب سے مینٹینینس چارجز منصفانہ، متوازن اور متناسب ہونے چاہیں۔ اس حوالے سے بھی راہ نمائی فراہم کیجیے۔

جواب/شرعی راہ نمائی

بنیادی بات: اصولِ فقہ: کرایہ (اجارہ) میں اصل ذمہ داری کس کی ہے؟

فقہ اسلامی میں کرایہ داری (اجارہ) کا بنیادی اصول یہ ہے کہ:

جس چیز کا کرایہ لیا جا رہا ہے، اس کے اصل وجود، بقا اور قابلِ انتفاع (usable) رہنے کی ذمہ داری مالک پر ہوتی ہے، جبکہ مستأجر (کرایہ دار) صرف متفقہ کرایہ اور اپنے استعمال سے متعلق اخراجات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

فقہاء نے تصریح کی ہے کہ:

عمارت کی بنیادی مرمت ، چھت، دیوار، سیڑھی، لفٹ، پائپ لائن اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی اصلاح  اور وہ امور جن سے اصل منفعت برقرار رہتی ہے   ان کی ذمہ داری مالک پر ہوتی ہے، کرایہ دار پر نہیں۔

البتہ:

بجلی کا بل ، گیس کا بل ،پانی کا استعمال ، انٹرنیٹ ، اور دیگر ذاتی استعمال کے اخراجات  کرایہ دار کے ذمہ ہوتے ہیں۔

فقہی قاعدہ

"الخراج بالضمان"  یعنی جسے ملکیت اور نفع حاصل ہو، اصل ذمہ داری بھی اسی پر ہوتی ہے۔

چونکہ فلیٹ کی ملکیت مالک کو حاصل ہے اور جائیداد کی قدر (Property Value) میں اضافہ بھی مالک ہی کے حق میں جاتا ہے، اس لیے اصولاً ایسے اخراجات کا بوجھ بھی مالک پر ہونا چاہیے۔

جواب : سوال نمبر 1:                   کیا ماہانہ مینٹینینس مالک کی ذمہ داری ہے؟

    اگر مینٹینینس سے مراد وہ اخراجات ہیں جو:

لفٹ چلانے، عمارت کے مشترکہ حصوں کی صفائی،  سکیورٹی،  واٹر پمپ،  جنریٹر،  اور عمارت کے بنیادی نظام کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہیں تو فقہی اعتبار سے اصل ذمہ داری مالک پر ہے، کیونکہ یہ عمارت کے قابلِ استعمال رہنے کا حصہ ہے۔

البتہ اگر کرایہ داری کے معاہدہ میں ابتدا ہی سے واضح طور پر یہ شرط رکھی گئی ہو کہ:

"ماہانہ کرایہ 50,000 روپے ہوگا اور 10,000 روپے مینٹینینس علیحدہ مستأجر ادا کرے گا"

اور کرایہ دار نے یہ شرط جانتے ہوئے قبول کی ہو، تو فقہی اعتبار سے اس شرط کے جواز پر معاصر فقہاء میں گنجائش پائی جاتی ہے، کیونکہ یہ درحقیقت کل مالی ذمہ داری کی پیشگی تعیین (pre-disclosure) شمار ہو سکتی ہے۔( لیکن اس سے مالک کی اصل ذمہ داری کا اصول ختم نہیں ہوتا۔اور مروجہ قانون (سندھ رینٹڈ پریمیسس آرڈینینس  1979)کے مطابق بھی یہ شق ناجائیز ہے) 

اورپھر بھی یہ بحث باقی رہے گی کہ:

کیا یہ شرط منصفانہ تھی؟ ، کیا یہ جبر کے ماحول میں قبول کی گئی؟  ،کیا یہ صرف مالک کے مفاد کے لیے تھی؟

لیکن اگر:

معاہدہ کے بعد یکطرفہ طور پر بوجھ بڑھایا جائے،  یا اصل ذمہ داری کو زبردستی منتقل کیا جائے،  یا کرایہ دار کو دھمکی دے کر وصولی کی جائے، تو یہ شرعاً محلِ اشکال اور ظلم  کی ایک صورت بن جاتی ہے۔

 جواب: سوال نمبر 2:                                   کیا پراپرٹی کی ویلیو بڑھانے، رینوویشن یا ڈیویلپمنٹ  کے نقطہ نظر سےفنڈ کرایہ دار سے لیا جا سکتا ہے؟

یہاں اصل فرق سمجھنا ضروری ہے۔

(الف) مینٹینینس فنڈ

وہ اخراجات جو عمارت کو قابلِ استعمال رکھنے کے لیے ہوں۔

(ب) ڈیویلپمنٹ فنڈ

وہ اخراجات جو:

نئی سہولتیں پیدا کریں، جائیداد کی قیمت بڑھائیں،  مستقبل کی سرمایہ کاری ہوں،  رینوویشن،  اپ گریڈیشن،  اور کیپیٹل امپرومنٹ  (Capital Improvement) کے زمرے میں آتے ہوں۔

آپ کی بیان کردہ صورت میں 4,000 روپے کا اضافی فنڈ اگر واقعی:

مستقبل کی ترقی،  جائیداد کی قدر میں اضافہ،  اور مستقل اثاثہ سازی  کے لیے ہے، تو اس کا براہِ راست فائدہ مالکان کو پہنچتا ہے، کرایہ داروں کو نہیں۔لہٰذا شرعی اصول کے مطابق اس قسم کے اخراجات کا اصل بوجھ مالکان پر ہونا چاہیے، نہ کہ کرایہ داروں

پر۔اس لیے انتظامی اور شرعی اعتبار سے زیادہ منصفانہ طریقہ یہ ہے کہ:مینٹینینس فنڈ الگ ہو، ڈیویلپمنٹ فنڈ الگ ہو، اور بالخصوص ڈیویلپمنٹ فنڈ مالکان سے وصول کیا جائے۔اگرچہ بنیادی طور پر مینٹینینس فنڈ بھی مالک کی ذمہ داری ہے نہ کہ کرایہ

دار کی۔ یہ عدل اور ملکیت کے اصول سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔

جواب: سوال نمبر 3:     کیا مالکان یا یونین دھمکی دے کر یہ رقم وصول کر سکتے ہیں؟

اسلامی شریعت کا اصول ہے:

"لا ضرر ولا ضرار" (نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچاؤ۔)

نیز قرآن مجید فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ "آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ۔" (النساء: 29)

اگر:

  • معاہدہ میں ایسی شرط موجود نہ ہو،  بعد میں یکطرفہ اضافہ کیا گیا ہو،  کرایہ دار کی رضامندی نہ ہو،  اور دھمکی دے کر وصولی کی جا رہی ہو،  تو یہ طریقہ شرعی اخلاقیات اور عدل کے اصول کے خلاف ہے۔

البتہ اگر:

  • معاہدہ ختم ہونے کے بعد مالک تجدیدِ معاہدہ (Renewal) کے وقت نیا کرایہ یا نئی شرائط پیش کرے،
  • اور کرایہ دار قبول یا رد کرنے کا اختیار رکھتا ہو، تو یہ ایک الگ قانونی و فقہی بحث ہے۔

لیکن دورانِ معاہدہ یکطرفہ طور پر نئے مالی بوجھ عائد کرنا محلِ نزاع ہے۔

جواب: سوال نمبر- 4 : کیا تمام فلیٹس (جو متفرق سائیز کے ہیں) پر یکساں مینٹینینس چارج لگانا  جائیز ہے؟

اس مسئلے میں شریعت کا اصول عدل، تناسب (Proportionality) اور عدمِ ظلم ہے، اور یہی اصول عقلی اور انتظامی انصاف کا بھی تقاضا ہے۔

1۔ کیا تمام فلیٹس پر یکساں مینٹینینس چارج لگانا شرعاً ضروری ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔

اخراجات کا تعلق ایسے امور سے ہو ، مثلاً: لفٹ کا استعمال ، پانی کی کھپت ، سیوریج پر بوجھ ، صفائی وغیرہ، پارکنگ ،  عمارت کی ساختی دیکھ بھال،  سیکیورٹی گارڈ  ،گیٹ کی نگرانی ، سی سی ٹی وی سسٹم ، جنرل ایڈمنسٹریشن  اور  یونین آفس کے اخراجات  تو صرف مساوی رقم عائد کرنا ہمیشہ منصفانہ نہیں ہوگا۔ رہاہئشیوں کی تعداد، فی فرد لفٹ کا استعمال، گھروں کے اندر گھر کے سائیز کے حساب سے افراد کی رہائیش وغیرہ  اوردیگر سہولیات کا استعمال جو یقیناً متفرق رہتا ہے۔

2۔ فلیٹ کے رقبے (Area) کے لحاظ سے چارج لینا شرعاً زیادہ مناسب ہے؟

فقہی اعتبار سے اس کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔

کیونکہ:

  • 1050 مربع فٹ کا فلیٹ اور
  • 1850 مربع فٹ کا فلیٹ

ملکیتی حصے (Undivided Share) میں برابر نہیں ہوتے۔

بڑی یونٹ:

  • عمارت میں زیادہ حصہ رکھتی ہے۔
  • مشترکہ ملکیت میں زیادہ حصہ رکھتی ہے۔
  • پراپرٹی ویلیو زیادہ رکھتی ہے۔
  • مستقبل کی ترقی سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرتی ہے۔

اس لیے فقہی اصول:

الغنم بالغر(جس کا فائدہ زیادہ ہو، اس پر بوجھ بھی اسی نسبت سے زیادہ ہوگا) یہاں پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔

3۔ ڈیویلپمنٹ فنڈ کے معاملے میں کون سا طریقہ زیادہ عادلانہ ہے؟

اگر فنڈ کا مقصد:

پراپرٹی ویلیو بڑھانا ، عمارت کی اپ گریڈیشن ، مستقل اثاثوں کی تعمیر اور خوبصورتی اور مارکیٹ ویلیو میں اضافہ  ہو تو شرعی انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تقسیم ملکیتی حصص (Ownership Share) کے مطابق ہو۔

مثال کے طور پر:

فلیٹ

رقبہ

2 بیڈ

1050 sqft

3 بیڈ

1600 sqft

4 بیڈ

1850 sqft

کل رقبہ = 4500 sqft

اگر ترقیاتی فنڈ 9000 روپے ماہانہ درکار ہو تو:

  • 1150 sqft فلیٹ = تقریباً 23.5% حصہ
  • 1500 sqft فلیٹ = تقریباً 33.3% حصہ
  • 1850 sqft فلیٹ = تقریباً 41.1% حصہ

اسی تناسب سے رقم تقسیم کرنا عدل کے زیادہ قریب ہوگا۔

4۔ اگر سب پر 4000 روپے یکساں لگا دیے جائیں تو؟

اس صورت میں:

  • 1050 sqft مالک بھی 4000 دے۔
  • 1850 sqft مالک بھی 4000 دے۔

تو چھوٹا فلیٹ رکھنے والا نسبتاً زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہوگا اور بڑا فلیٹ رکھنے والا نسبتاً کم۔

یہ طریقہ بعض اوقات انتظامی آسانی تو پیدا کرتا ہے، لیکن ہمیشہ عدل اور تناسب کے مطابق نہیں ہوتا۔خصوصاً جب فنڈ کا مقصد پراپرٹی ویلیو میں اضافہ ہو تو مساوی تقسیم شرعی انصاف کے معیار سے کم تر محسوس ہوتی ہے۔

5۔ کرایہ داروں کے بارے میں شرعی حکم

آپ کے بیان کردہ معاملے میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ:

یہ ترقیاتی فنڈ اگر:

ملکیت کی بہتری،  عمارت کی سرمایہ جاتی ترقی،  اور پراپرٹی ویلیو میں اضافے  کے لیے ہے تو اصولاً اس کا بوجھ مالکان پر ہونا چاہیے۔

پھر مالکان کے درمیان بھی اس کی تقسیم:

رقبے کے تناسب سے،  یا ملکیتی حصے (Share in Common Areas) کے تناسب سے  زیادہ منصفانہ ہوگی۔ اس کا بوجھ کرایہ داروں پر منتقل کرنا شرعی انصاف کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں معلوم ہوتا، کیونکہ کرایہ دار اس سرمایہ کاری کے مستقل ثمرات کا مالک نہیں بنتا۔

خلاصۂ

آپ کی بیان کردہ صورت کو سامنے رکھتے  ہوئے اصولی شرعی رائے یہ ہے:

1۔فلیٹ کی بنیادی   مینٹینینس، عمارت کی بقا اور قابلِ استعمال رہنے کے اخراجات اصل ذمہ داری کے اعتبار سے مالک پر ہیں، کیونکہ وہ ملکیت سے متعلق امور ہیں۔

2۔بجلی، گیس، پانی اور دیگر ذاتی استعمال کے اخراجات کرایہ دار کے ذمہ ہیں۔

3۔اگر ابتدا ہی سے معاہدہ میں واضح شرط موجود ہو کہ کرایہ دار مینٹینینس چارج بھی ادا کرے گا تو اس شرط کی ایک حد تک گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن یا د رہے کہ اس سے مالک کی اصل قانونی ذمہ داری کا اصول ختم نہیں ہوتا۔(سندھ رینٹڈ پریمیسس آرڈینینس 1979)

4۔پراپرٹی کی قدر بڑھانے، مستقل رینوویشن، اپ گریڈیشن اور ڈیویلپمنٹ فنڈ کا اصل اور براہِ راست فائدہ مالکان کو پہنچتا ہے، اس لیے اس کا بنیادی بوجھ مالکان پر ہونا چاہیے۔

ایسے ترقیاتی فنڈ کو عام مینٹینینس سے الگ رکھنا اور اسے مالکان سے وصول کرنا شرعی انصاف اور انتظامی شفافیت کے زیادہ موافق ہے۔

ایسے ترقیاتی فنڈ کو ماہانہ مینٹینینس میں ملا کر کرایہ داروں پر منتقل کرنا عدل و انصاف کے اصولوں کے خلاف معلوم ہوتا ہے، خصوصاً جب کرایہ دار کو اس سرمایہ کاری سے مستقل فائدہ حاصل نہ ہو۔

دھمکی، دباؤ، بلیک میلنگ یا ناجائز خوف پیدا کرکے رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں۔

8- مالکان سے بھی یہ فنڈ فلیٹ کے رقبے یا ملکیتی حصے کے تناسب سے لینا زیادہ عادلانہ اور شرعاً اقرب الی العدل ہے۔

1050، 1600اور 1850 مربع فٹ کے فلیٹس پر یکساں رقم عائد کرنا انتظامی طور پر ممکن تو ہے، لیکن عدل و تناسب کے اعتبار سے کمزور بنیاد رکھتا ہے۔

فقہی قواعد "الغنم بالغرم" (فائدہ کے ساتھ ذمہ داری) اور "الضرر يزال" (ضرر کو دور کیا جائے) اسی بات کی تائید کرتے ہیں کہ بوجھ اور فائدہ میں معقول تناسب ہونا چاہیے۔

8۔اس معاملہ کا بہترین حل یہ ہے کہ:

  • مینٹینینس فنڈ الگ رکھا جائے،
  • ڈیویلپمنٹ فنڈ الگ رکھا جائے،
  • شرعی انصاف کے زیادہ قریب طریقہ یہی ہے کہ فلیٹ کے سائز/ملکیتی حصے کے تناسب سے  مینٹینینس فنڈتقسیم کیا جائے۔
  • اور  متعلقہ یونین کی جانب سے بھی قانون کے مطابق  - مالکان و کرایہ داروں کی ذمہ داریاں واضح طور پر تحریری طور پر متعین کی جائیں ۔

فقہی مراجع کے اعتبار سے یہ بحث فقہِ اجارہ میں مذکور ہے، خصوصاً:

  • الہدایہ
  • بدائع الصنائع
  • رد المحتار
  • الموسوعة الفقهية الكويتية

ان تمام مصادر میں اجارہ کے باب میں اس اصول کو تسلیم کیا گیا ہے کہ :

منفعت اور ملکیت کی ذمہ داریوں کے درمیان فرق ملحوظ رکھا جائے اور کسی ایک فریق پر غیر منصفانہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔

اسی طرح سندھ رینٹڈ پریمیسس آرڈینینس 1979 میں بھی کئی چیزیں واضح ہیں۔

Post a Comment

Continue reading post after Advertisement